حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دنیائے مسیحیت کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جھڑپیں روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں دل کی گہرائیوں سے دشمنی کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہوں، تاکہ یمن کے عوام اور خطے کی تمام اقوام امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
پوپ لیو چہاردہم نے یمن کے جنوب مغرب میں واقع شہر تعز کی انسانی صورتِ حال پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہاں کے باشندے خوراک، پانی اور طبی خدمات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، تعز میں جھڑپوں میں شدت اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قلت سے یونیسف کے تعاون سے چلنے والے پانی کی فراہمی کے نظام کو خطرہ لاحق ہے، جو تقریباً 30 لاکھ یمنی شہریوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں، جن میں تقریباً 16 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔
پوپ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ جنگیں، موت اور تباہی پھیلانے کے علاوہ، دنیا کو غریب اور زخمی بھی کر دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ جنگیں موت اور تباہی پھیلانے کے علاوہ دنیا کو غریب اور نقصان زدہ بھی کرتی ہیں۔
انہوں نے اردن میں سینٹ جارج آرتھوڈوکس چرچ پر دہشت گردانہ حملے میں جانبحق ہونے والوں کے لیے بھی دعا کی اور کے اہلِ خانہ اور زخمیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔










آپ کا تبصرہ